دقت زبان

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مشکل زبان، دشوار عبارت، غیرمانوس الفاظ والی تحریر۔ "باطنی واردات کے ذریعہ سے باکمال صوفیہ نے جن عمیق ترین تجربات کو بیان کیا ان کے قارئین اکثر سوء فہم اور دقت زبان کا شکار ہوگئے۔"      ( ١٩٨٠ء، نذرحمید احمد خاں، ١٩٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق 'دقت' کے ساتھ 'زبان' فارسی زبان سے اسم جامد لگا کر مرکب اضافی بنایا گیا ہے۔ اس میں 'زبان' مضاف الیہ اور 'دقت' مضاف ہے اردو میں ١٩٨٠ء کو "نذر حمید احمد خاں" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مشکل زبان، دشوار عبارت، غیرمانوس الفاظ والی تحریر۔ "باطنی واردات کے ذریعہ سے باکمال صوفیہ نے جن عمیق ترین تجربات کو بیان کیا ان کے قارئین اکثر سوء فہم اور دقت زبان کا شکار ہوگئے۔"      ( ١٩٨٠ء، نذرحمید احمد خاں، ١٩٨ )

جنس: مؤنث